سچ یہ بھی ہے۔۔۔سیلاب اور انسانی گدھ

0
562


تحریر: محمد لقمان

لاہور کے علاقے پی آئی اے روڈ پر ایک سبزی کی دکان پر پیاز خریدنے کے لئے گیا۔ تو ایک شخص کو سبزی کی دکان کے مالک سے بحث کرتے دیکھا۔ اپنے لباس سے وہ سیکیورٹی گارڈ لگ رہا تھا۔ وہ دس روپے کا پیاز مانگ رہا تھا جب کہ دکاندار کہہ رہا تھا کہ اب تو سو گرام وزن کا چھوٹا سا پیاز بھی چالیس روپے سے کم قیمت پر دستیاب نہیں۔ شاید اس غریب کے پاس تیس چالیس روپے بھی نہیں تھے۔ اس لیے وہ نم ناک آ نکھوں کے ساتھ وہاں سے چلا گیا۔ میں نے پیاز اور ٹماٹر کا ریٹ پوچھا تو پتہ چلا کہ اب درمیانی قسم کا پیاز بھی چار سو روپے کلو سے کم قیمت پر دستیاب نہیں۔ ٹماٹر کی قیمت تین سو روپے فی کلو تک پہنچ چکی تھی۔ ادرک کی قیمت بھی پانچ سو روپے فی کلو تک پہنچ چکی تھی۔ وجہ پوچھی تو دکاندار نے تمام الزام سیلابی صورت حال پر دھر دیا۔ چونکہ بلوچستان اور سندھ سے سبزیاں نہیں آرہیں اس لیے لاہور میں قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ سبزی کی دن سے قریب کے کیش اینڈ کیری اسٹور پر گیا تو وہاں پیاز کی فی کلو قیمت پانچ سو نو روپے فی کلو تھی۔ بیس اگست کو سو روپے فی کلو سے بھی کم قیمت پر ملنے والے پیاز کی قیمت میں چھ گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ دو ہفتوں سے جاری سیلابی صورتحال کی وجہ سے یہ سبزی فروش ہی نہیں، ہر کاروباری کی چاندی ہوگئی ہے۔ سیلاب زدگان کی امداد ٹینٹ ، ترپال اور مچھر دانی کی قیمت دوگنی کرکے کی جا رہی ہے۔ وہی ٹینٹ جو سیلاب سے پہلے چار پانچ ہزار کا مل جاتا تھا۔ اب اس کی قیمت دس سے بارہ ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے۔ پولی تھین کی ترپال کی قیمت آٹھ سو روپے سے بڑھ کر بارہ سو روپے تک پہنچ گئی ہے۔ ملک کا ایک تہائی رقبہ ابھی بھی سیلابی پانی سے گھرا ہوا ہے اور کروڑوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ گیارہ سو افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔ اربوں روپے کی فصلیں تباہ ہوچکی ہیں۔ مگر ملک کی تاجر برادی کے لئے سیلاب کا آنا کسی نعمت سے کم نہیں۔ ان گدھ نما انسانوں نے کرونا کے دنوں میں بھی لوگوں کی مشکلات اور مجبوریوں سے فائدہ اٹھایا تھا۔ عام طور پر چار روپے پر بکنے والا کپڑے کا ماسک چالیس سے پچاس روپے تک بکتا رہا۔ این نائنٹی فائیو قسم کا ایک ماسک چار سے پانچ سو روپے سے کم دستیاب نہیں رہا۔ مارکیٹ سے پینا ڈال غائب ہوگئی اور پیراسٹامول سالٹ کی ہلکے معیار کے برانڈ پر مہنگے داموں بکتے رہے۔ کرونا کا ٹیسٹ چند لیبارٹریاں منہ مانگے دٓاموں پر کرتی رہیں۔ یہی تاجر حضرات عبادت بڑے خشوع و خضوع سے کرتے ہیں۔ مگر حقوق العباد سے مکمل طور پر نا بلد ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو کہ رمضان کے مہینے میں پھلوں اور دیگر اشیائے خورو نوش کی قیمتیں دگنی کردیتے ہیں۔ اللہ کے نزدیک تو وہ انسان زیادہ افضل ہے جس کی وجہ سے دوسروں کو سکون ملے۔ اس جنت کا کیا فائدہ جو دوسروں کی زندگی کو جہنم بنا کر ملے۔ ان دنوں مسئلہ صرف منافع خور تاجروں کا ہی نہیں۔ بہت سارے ایسے فراڈیے بھی میدان میں آچکے ہیں جو کہ جعلی تنظیموں کے نام سے سیلاب زدگان کے نام پر چندہ جمع کر رہے ہیں۔ یہ لوگ گھر گھر جا کر جعلی رسیدوں پر ہزاروں روپے وصول کر رہے ہیں۔ یہ وہ وقت ہے جب تاجر اور دیگر صاحب حیثیت لوگوں کو مشکلات میں گھرے افراد کی مدد کرنی چاہیے ، نہ کہ ان کی کھال ہی اتاری جاری ہیں۔ اگر ہم سچ مچ زندہ قوم ہیں ہمیں ایک گدھ کی طرح اپنے بھائیوں کا گوشت نوچنے کی بجائے ان کی مالی مدد کرنی چاہیے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here