خار زار صحافت۔۔۔قسط ایک سو دس

0
808


لمز میں چھ روز
تحریر: محمد لقمان

ورلڈ بینک کے زیر اہتمام اقتصادی صحافت کی تربیتی ورکشاپ کے شرکا کے لئے رہائش کے لئے لمز کے راوزنگ ایگزیکٹو سینٹر ( ریک) میں انتظام کیا گیا تھا۔ میرا خیال ہے کہ شائد صحافیوں کو پہلی مرتبہ لمز میں ٹھہرایا گیا تھا۔ پانچ چھ راتوں کو دیر تک شور شرابا بھی لمز کی انتظامیہ نے پتہ نہیں کیسے برداشت کیا ہوگا۔ شاید ورلڈ بینک کے رول کی وجہ سے ایسا کیا گیا۔ میری بیگم چونکہ ان دنوں فیصل آباد میں میکے رہنے کے لئے گئی ہوئی تھیں۔ اس لیے میرے لیے گھر سے دور چند روز گذارنا اتنا مشکل محسوس نہیں ہوا ۔ سولہ جنوری کی صبح جب ورکشاپ کا آغاز ہوا تو سب کو اپنا تعارف کروانے کو کہا گیا۔ شرکا کے تعارف کے بعد ٹموتھی (ٹم) کیرنگٹن اور لمز کے اساتذہ جن میں ڈاکٹر نعیم سپرا تھے اور ایک خاتون تھیں۔ نے بھی اپنے بارے میں بتایا۔ قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے فارغ التحصیل ہونے کے تیرہ چودہ سال بعد ایک اچھی یونیورسٹی میں دوبارہ تعلیم حاصل کرنا بہت اچھا لگا تھا۔ اس بار سب سے بڑی بات یہ تھی کہ کوئی پروفیسر اپنا لیکچر جھاڑ کر چلا نہیں جاتا تھا۔ بلکہ پوری کلاس کو کسی بھی بحث مباحثے کا پوری طرح حصہ بنایا گیا تھا۔ ہر لیکچر کے دوران ٹم کیرنگٹن یا لمز کے پروفیسرز ورکشاپ کے تمام شرکا کو اپنے ساتھ رکھنے کے لئے کوئی نہ کوئی سوال داغ دیتے۔ جس کا جواب ہر شخص کو دینا پڑتا۔ غلط جواب پر کسی تضحیک کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑتا تھا۔ یوں ہر روز پانچ چھ گھنٹے کی کلاس کے دوران تمام شرکا متوجہ رہتے اور بحث مباحثے کا حصہ بنا رہتے۔ ٹم اکثر مجھے محمڈ کہہ کر پکارتے۔ ایک روز میں نے چائے کے وقفے میں ان کو بتایا کہ پاکستان میں نوے فیصد مسلمان مرد آبادی کا نام محمد سے ہی شروع ہوتا ہے اور اکثر ان کو ان کے دوسرے نام سے ہی پکارا جاتا ہے۔ اس کے بعد ٹم نے کبھی مجھے محمد تو کبھی لقمان کے نام سے پکارنا شروع کردیا۔ اس ورکشاپ میں ڈویلپمنٹ اکنامکس اور پولیٹیکل اکانومی کے تصورات کو پہلی مرتبہ تفصیل سے جاننے کا موقع ملا تھا۔ بحث کا زیادہ تر وقت تو صابر شاہ اپنے لمبے سوالوں اور جوابوں سے لے لیتا۔ ندیم ملک ، ابصار عالم اور دیگر شرکا بھی بحث میں حصہ لیتے لیکن میں نے اکثریت کو اختصار سے کام لیتے ہی دیکھا۔ مگر میں نے ورلڈ بینک ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ سے آئے صحافی ٹم کیرنگٹن کو کبھی بھی سوالوں سے اکتاتے ہی نہیں دیکھا تھا۔ ہر سوال کا مکمل جواب دیتے اور اس سلسلہ میں مختلف کتابوں اور تحقیق کا حوالہ بھی دیتے۔ جب کسی موضوع پر بحث لمبی ہوجاتی تو ورلڈ بینک پاکستان کی طرف سے آئے ہوئے کوآرڈینٹر شہزاد شرجیل فورا مداخلت کرتے اور چائے یا لنچ کے وقفے کا اعلان کردیتے۔ اس ورکشاپ کی وجہ سے مجھ سمیت تمام شرکا کے اقتصادی صحافت کے بارے میں تصورات میں بہتری آئی۔ اور اندازہ ہوا کہ تیکنیکی موضوعات پر اچھی خبر بنا کر قارئین ، ناظرین اور سامعین تک پہنچائی جا سکتی ہے۔ اسی طرح اقتصادی موضوعات پر بحث کرتے ہوئے کہاں اپنے موقف کو پورے زور شور سے آگے بڑھا نا چاہیے اور کہاں زیادہ زور نہیں دینا چاہیے۔ اس بارے میں بھی پوری طرح آگاہ کیا گیا۔ اس وقت میں بطور اکنامک جرنلسٹ جو کچھ بھی لکھتا ہوں یا بولتا ہوں۔ مجھے اس پر چھ روز کی پوری چھاپ نظر آتی ہے۔ اس ورکشاپ میں صرف پڑھا اور لکھا ہی نہیں ۔ ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کا موقع بھی ملا۔
امریکہ کی ورجینیا یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ٹموتھی کیرنگٹن بڑی دلچسپ شخصیت کے مالک تھے۔

چھریرا جسم اور موٹے شیشے والی عینک کے پیچھے چمک دار آنکھیں ہر کسی سے نرم لیجے میں بات کرتے۔ وہ انیس سو اسی سے انیس سو پچانوے تک وال اسٹریٹ جرنل سے بطور اکنامک جرنلسٹ منسلک رہے۔ انیس سو پچانوے میں ورلڈ بینک ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کی فیکلٹی کا حصہ بن گیئے۔ جن کا کام ترقی پذیر ممالک کے صحافیوں کی اکنامک رپورٹنگ کے میدان میں تربیت تھی۔ لمز میں تربیت کے دوران وہ ورکشاپ کے شرکا کے ساتھ گھل مل گیئے۔ ہر قسم کے شغل مغل میں حصہ لیا تو بڑی متانت سے۔ ایک شام ان کے کمرے میں اکٹھے ہویئے تو تنویر راٹھور نے بھگت سنگھ سے منسوب پنجابی گیت رنگ دے بسنتی چولہ گایا تو زبان نہ جانتے ہویئے بڑے محظوظ ہوئے۔ راٹھور کی لمبی لمبی لے پر ریمارکس دیے کہ تمہارے پاس تو ہاتھی کے پھیپھڑے ہیں۔ اندرون شہر گیئے تو لاہور کی مصنوعات میں بہت دلچسپی لی اور خریداری بھی کی۔ ایک ڈالر کا پل اوور ملا تو بڑے حیران ہوئے کہ پاکستان میں چیزیں کتنی سستی ہیں۔ ٹریننگ ختم ہوئی ٹم واپس واشنگٹن چلے گئے اور ہم پرانی زندگی میں واپس آگٗے جہاں ٹریننگ میں بتائی ہوئی باتوں کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here