خار زار صحافت۔۔۔قسط بہتر

0
988

فیصل آباد۔۔۔زرعی تحقیق و ترقی کا مرکز (۱

تحریر: محمد لقمان

فیصل آباد میں اپنی تعیناتی کے ڈیڑھ سال کے دوران زرعی تحقیق کے اداروں میں جانے کا درجنوں دفعہ اتفاق ہوا۔ سب سے بڑا ادارہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد تھا۔ یہ یونیورسٹی قائم تو انیس سو اکسٹھ ہوئی۔ مگر اس کی بنیاد انیس سو چھ میں لائل پور زرعی کالج کے طور پر رکھی گئی تھی ۔ برطانوی حکومت نے یہ کالج متحدہ پنجاب میں زرعی ترقی اور تحقیق کے لئے قائم کیا تھا۔ جب مشرقی پنجاب بھارت میں شامل ہوا تو وہاں لدھیانہ میں زرعی کالج قائم کیا گیا۔ اس کالج کو لائل پور ماڈل پر قائم کیا تھا۔ انیس سو ستتر میں لائل پور سے فیصل آباد بنا تو زرعی یونیورسٹی لائل پور زرعی یونیورسٹی فیصل آباد بن گئی۔
زرعی یونیورسٹی سے میرا تعلق نوجوانی کے ایام سے ہے۔ میرا گھر اس سے بہت قریب تھا۔ اس لئے صبح سویرے اپنے بڑے بھائی کے ساتھ اس میں سیر کے لئے آتا۔ انیس سو تراسی میں جب ایف ایس سی پری میڈیکل کی تو میں نے ڈی وی ایم اور زراعت کے بی ایس سی کورسز کے لئے درخواست دی تو میرے والد نے یہ کہہ کر یونیورسٹی میں داخلے کی مخالفت کی کہ ہمارا واہی بیجی (کاشتکاری ) سے کیا لینا دینا ہے۔ نہ ہم کاشتکار ہیں اور نہ ہی آئندہ اس شعبے میں کام کا ارادہ ہے۔ میرے کئی دوستوں کے یونیورسٹی میں داخلہ ہوا ۔ ان میں بہت سارے ان دنوں زرعی یونیورسٹی میں ہی تحقیق سے منسلک ہیں۔ مگر زندگی میں ایسے مواقع بھی آتے ہیں جب جن شعبوں میں آپ کی دلچسپی نہ ہو وہی دل کے زیادہ قریب ہو جاتے ہیں۔ انیس سو چورانوے میں پہلی دفعہ اے پی پی فیصل آباد میں تعیناتی ہوئی جو کہ چند ماہ کے لئے تھی۔اس دوران زرعی یونیورسٹی میں تحقیق کے عمل کو پہلی مرتبہ قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ مگر انیس سو چھیانوے میں جب فیصل آباد دوبارہ تبادلہ ہوا تو تعیناتی کی مدت ڈیڑھ سال سے زائد رہی۔ ہفتے میں کم از کم کسی تقریب کی کوریج یا خبر کی تلاش کے لئے زرعی یونیورسٹی آنے کا موقع مل جاتا۔ یونیورسٹی کے ان دنوں وائس چانسلر احمد ندیم شعری سے تو بہت کم ملاقات ہوئی۔ مگر شعبہ سائل سائنس (ترابیات) کے سربراہ ڈاکٹر ریاض حسین قریشی اور ھارٹیکلچر کے پروفیسر رانا اقرار احمد خان سے دوستی ہوگئی۔ شورہ زدہ زمین کے لئے بنائی گئی گند م کی اقسام ۔ سارک ون اور سارک ٹو کے علاو ہ بلیو سلور کے بارے میں فیچر لکھا۔ ترشاوہ پھلوں پر بھی کئی مضامین لکھے۔ اتفاق کی بات ہے کہ بعد میں یہ دونوں صاحبان زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر بنے۔ اسی دوران زراعت پر کئی سیمینارز میں شرکت کا موقع ملا۔ مگر ایک چیز ہمیشہ میرے دل میں کھٹکتی رہی ہے کہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد تمام تر اچھے انسانی وسائل کے بعد بھارتی پنجاب کی لدھیانہ زرعی یونیورسٹی کا مقابلہ نہیں کرسکی۔ اس کی بنیادی وجہ یہاں برادری کی بنیاد پر تقسیم ہے۔ کچھ عرصہ پہلے زرعی یونیورسٹی کی دیواروں پر برادری پرستی کے نعرے بھی نظر آتے تھے۔ پتہ نہیں اب کیا صورت حال ہے۔ ایک اور ادارہ جس کا پنجاب کی زراعت میں اہم کردار رہا ہے۔ وہ جھنگ روڈ پر واقعہ وسیع و عریض ایوب ایگریکلچر ریسر چ انسٹی ٹیوٹ ہے۔ اس کا قیام انیس سو باسٹھ میں عمل میں آیا۔ ایک زرعی تحقیق کے ادارے کا مقصد یہ تھا کہ زرعی کالج کو یونیورسٹی کا درجہ ملنے کے بعد وہاں صرف تعلیم و تدریس ہو جبکہ ایوب ایگریکلچر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ذمے زرعی تحقیق کی ذمہ داریاں تھیں۔ تاہم بعد میں انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ کو ڈائریکٹر جنرل زرعی تحقیق پنجاب کا عہدہ بھی مل گیا۔ اس ادارے میں بھی برادری ازم اپنے عروج پر رہا ہے۔ اس سلسلے میں ایک واقعہ کا میں چشم دید گواہ ہوں۔ ایک روز میں انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ایم اے حلیمی ( مختار احمد حلیمی) کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ زرعی سائنس میں ترقی پر بات ہورہی تھی۔ اچانک ان کے فون کی گھنٹی بجی۔ انہوں نے ٹھیٹھ پنجابی میں گفتگو شروع کی۔ چند منٹ بعد ہی وہ ننگی گالیاں دینے لگے۔ ایک فقرہ مجھے ابھی بھی یاد ہے کہ . میں زراعت وچ پی ایچ ڈی ضرور کیتی ۔ پر میں گجر وی آں۔ ایہ گل ضرور یاد رکھنا۔ ( میں نے زراعت میں پی ایچ ڈی کی ہوئی ہے۔ مگر میں گجر براداری سے تعلق بھی رکھتا ہوں۔ یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے)۔ میرے استفسار پر انہوں نے بتایا کہ گاوں سے فون آیا تھا۔ جس کے ذریعے پتہ چلا کہ ساتھ کے ارائیوں کے بکرے ہمارے کھیت میں آکر فصل چر گئے ہیں۔۔ میں نے انہیں بتا دیا ہے کہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔ اتنے بڑے عہدے پر پہنچنے کے باوجود بھی زرعی سائنسدانوں سے قبائلی عصبیت نہیں جاتی۔ بھرتی کرتے ہوئے ا ور ترقی دیتے ہوئے ذات براداری کا ضرور خیال رکھا جاتا ہے۔ اسی بات کا اظہار مرحوم فاروق احمد خان لغاری نے زرعی یونیورسٹی کی ایک کانووکیشن ممیں بھی کیا تھا۔ (جاری ہے)

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here