خار زار صحافت۔۔۔۔قسط ایک سو بتیس

0
163


دنیا داری میں واپسی
تحریر: محمد لقمان

ہر پاکستانی جب حج یا عمرہ سے واپس آتا ہے تو زیادہ مذہبی ہو جاتا ہے۔ میرے ساتھ بھی ایسے ہی ہوا ۔ ان دنوں میں لاہور کے علاقے اسلام پورہ کے انصاری روڈ پر رہتا تھا۔ عمرہ سے واپسی کے دن مغرب کی نما ز کی ادائیگی کے لئے میں شام ہونے سے بہت پہلے عرفانی مسجد پہنچ گیا۔ اگلے دو روز تک ایسے ہی ہوتا رہا۔ ایسے موقع پر استقامت کی بہت ضرورت ہوتی ہے۔ جو کہ ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتی۔ تقریباً دو ہفتے کی چھٹیوں کے بعد دفتر گیا تو پہلی اسایئنمنٹ ایک فیشن کیٹ واک کی رپورٹنگ تھی۔ وزارت تجارت کے ذیلی ادارے ایکسپورٹ پروموشن بیورو نے فیشن شو کا انعقاد پرل کانٹیننٹل ہو ٹل میں کیا تھا۔ ابھی تو ظاہری حلیے پر عمرے کے خاصے اثرات تھے۔ یعنی سر منڈا ہوا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ میں نے اس دن سفاری سوٹ پہنا ہوا تھا۔ جب کیٹ واک شروع ہوئی تو میں نے نظروں کو جھکائے رکھا۔ ایک عجب احساس گناہ تھا۔ میرے ذہن میں ھاروت اور ماروت نامی فرشتوں کی کہانی آ رہی تھی جن کو ایک روایت کے مطابق ایسی ہی ایک محفل میں جانے کی وجہ سے دھویں کے کنویں میں بند کر دیا گیا تھا۔ مگر کچھ دیر بعد مصلحت اور دنیا داری غالب آ گئی اور میں نے روایتی خشوع و خضوع کے ساتھ کیٹ واک کو صحافیانہ دلچسپی سے دیکھنا شروع کردیا۔ سونے پر سہاگہ یہ ہوا کہ کیٹ واک کے منتظمیں نے باری باری وہاں موجود سب صحافیوں کو سونئیر دینے کے لیئے اسٹیج پر بلایا۔ میں اسٹیج پر پہنچا تو دل میں ایک عجب خیال تھا کہ ابھی ابھی عمرہ پر اپنے تمام گناہوں کی معافی مانگ کر آیا ہوں اور آج اس تقریب میں موجود ہوں جہاں مغریبیت کچھ زیادہ ہی تھی۔ بہر حال جب تقریب ختم ہو ئی تو کافی حد تک دنیا داری میں واپس آچکا تھا۔ اسی دوران وہاں مشہور بزنس مین جمیل اے ناز سے ملاقات ہوئی تو وہ کہنے لگے کہ انسان کو دیگر انسانوں کے ساتھ اپنے معاملات کو درست کرنے سے بھی خدا کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے۔ یہ بات بڑی اہم تھی۔ اس کو میں نے اب تک اپنے پلے باندھا ہوا ہے۔ عمرے کے موقع پر میں نے خانہ کعبہ کے سامنے اپنے اعمال میں بہتری کی دعا مانگی تھی اور خدا سے وعدہ کیا تھا کہ میں برائیوں سے بچنے سے ہر ممکن کوشش کروں گا۔ پہلا کام یہ کیا کہ میں نے مختلف صنعتکاروں کی طرف سے صحافیوں کے لئے مخصوص تحفے تحایئف لینے سے احتراز شروع کردیا۔ اس زمانے میں کامرس رپورٹرز کو ان کے گھروں اور دفاتر میں مختلف صنعتی تنظیمیں تحفے تحائف بھیجتی رہتی تھیں۔ میں نے اپنے خاندان والوں سے بھی کہہ دیا کہ ایسا کوئی تحفہ آئے تو واپس کردیں۔ میر ی بیوی نے اس سلسلے میں اب تک پورا ساتھ دیا ہے۔ کوئی بہت قریبی دوست تحفہ لے آئے تو الگ بات ہے۔ صحافی کی حیثیت سے تحفہ لینے سے حتی الامکان بچنے کی کوشش کرتا ہوں۔ کوئی بہت زیادہ مجبور کردے تو اس تحفے کو اپنے دفتری ساتھیوں میں تقسیم کر دیتا ہوں۔ عمرے کے بعد میں نے اپنے دفتر کے کام کو بھی زیادہ ترجیح دینا شروع کردی۔ سوچ یہ تھی کہ رزق حلال کمانا بھی کسی طور عبادت سے کم نہیں۔ کئی دفعہ ساتھی رپورٹرز کہتے کہ تم ایک مشقتی کی طرح کام کرتے ہو تو میں ہنس کر ٹال دیتا۔ میں نے یہ رویہ ابھی تک برقرار رکھا ہے۔ اس کا صلہ اگر آپ کو اپنے ادارے سے بھلے سے نہ ملے ، ایک اطمینا ن کا احسا س ضرور ہوتا ہے۔ دو ہزار تین کے سال میں مجھے دو مرتبہ صدر جنرل پرویز مشرف کے بیرونی دوروں کی کوریج کے لئے اے پی پی ھیڈ کوارٹرز کی طرف سے نامزد کیا گیا مگر اسلام آباد سے میرے ساتھیوں نے فارن آفس اور ایوان صدر میں اپنے تعلقات کی بنا پر ان دوروں سے میرا نام نکلوا کر اپنا نام شامل کروا لیا۔ دونوں دفعہ میرا پاسپورٹ دورے سے چند روز پہلے ہی مجھے واپس ملا۔ پہلا موقع ملائیشیا کے انتظامی دارالحکومت پترا جایا میں او آئی سی سمٹ تھی۔ جس میں جانے کے لئے اسلام آباد کے رپورٹر راو خالد نے دفتر خارجہ میں اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کیا اور دوسرا موقع سوئٹرزلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کا اجلاس تھا۔ اس کے لئے تو مجھے مختلف پروگراموں کے دعوت نامے بھی آچکے تھے جب انتھونی آگسٹین نے کسی طور میرا نام نکلوا کر اپنا نام شامل کر والیا۔ یہ بڑی عجیب بات تھی کہ سرحدوں کے اندر مشکل حالات میں صدر مشرف کی کوریج کے لئے مجھے بھیجا جاتا تھا مگر بیرون ملک کے دوروں کے لئے اور لوگوں کو بھیجا گیا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here