خار زار صحافت۔۔۔قسط ایک سو چھ

    0
    863


    شوکت عزیز: مشرف کابینہ کا اہم وزیر
    تحریر: محمد لقمان

    کلین شیو اور دراز قامت۔ پچاس سالہ شخص اسٹیٹ بینک بلڈنگ لاہور کی ساتویں منزل پر واقع کانفرنس روم میں داخل ہوا۔ تو کمرے میں موجود تمام افراد تعظیماً کھڑے ہوگئے۔ پاکستان کے فوجی حکمران چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف کے مشیر خزانہ شوکت عزیز کی لاہور میں معاشی امور پر پہلی اعلی سطحی میٹنگ تھی۔ پی آئی ڈی کی نمائندگی عابد سعید کر رہے تھے جب کہ اے پی پی نے اجلاس کی رپورٹنگ کے لئے مجھے بھیجا گیا تھا۔ پی ٹی وی کا کیمرہ مین اور سرکاری فوٹو گرافر بھی موجود تھے۔ اس وقت بھی ایسے ہی حالات تھے جیسے اب ہیں۔ نواز شریف کی حکو مت کے خاتمے اور فوجی حکومت کے قیام کے بعد زرمبادلہ کے ذخائر بہت نیچے آ چکے تھے۔ افراتفری کے اس دور میں سونے کے علاوہ ڈٖالر بھی ملک میں بچت کا ایک ذریعہ بن چکا تھا۔ ہر ایر ے غیر ے کی طرف سے ڈالرز کی خرید کے بعد روپے کی بے توقیری تیز ہو چکی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ مشیر خزانہ نے فاریکس ایسوسی ایشن کا اجلاس بلا رکھا تھا۔ مجھے پہلی مرتبہ ملک بوستان خان سے ملاقات کا موقع ملا۔ سال دو ہزار کے اوائل میں اچھی صحت کے مالک بوستان خان کی عمر پچاس سال کے قریب تھی۔ اور انہوں نے بڑی بڑی مونچھیں چہرے پر سجا رکھی تھیں۔ خیر مشیر خزانہ نے فاریکس ڈیلرز سے اس وقت کی صورت حال سے نمٹمنے کے لٗئے تجاویز لیں۔ اور بعد میں ملکی کرنسی کی قدر کے استحکام کے لئے حکومتی پالیسیوں اور اقدامات سے آگاہ کیا۔ فاریکس ڈیلرز کے ساتھ اجلاس ختم ہوا تو انجمن تاجران کا وفد پہنچ گیا۔ حاجی مقصوو بٹ کی قیادت میں گنی چنی تعداد میں تاجر رہنماوں کو مدعو کیا گیا تھا۔ اس وقت بھی مسلہ وہی تھا جو کہ آج ہے۔۔کہ حکومت ٹیکس وصولیوں کو کیسے بڑھائے۔ ابھی شوکت عزیز نے کچھ کہنے لئے منہ کھولا ہی تھا کہ حاجی مقصود بٹ نے ان کی تعریفوں کے پل باندھ دیے۔ کہ ان سے پہلے پاکستانی قوم کو ایسا وزیر خزانہ دستیاب نہیں ہوا۔۔وغیرہ وغیرہ۔ خیر شوکت عزیز نے حاجی مقصود بٹ کا شکریہ ادا کیا اور ان سے تاجر برادری سے ٹیکس وصولی کے لئے معاونت طلب کی۔ جس پر حاجی صاحب نے تاجروں کی ٖ غربت اور مالی وسائل کی کم یابی کے دکھڑے سنانے شروع کردیے۔ ان ساری باتوں کا مطلب یہ تھا کہ حکومت ٹیکس کے لئے چھوٹے اور درمیانے تاجروں کی طرف منہ نہ کرے۔ یہیں سے انجمن تاجران اور مشرف حکومت کے درمیان مخاصمت کا ایک سلسلہ شروع ہوا جو کہ دسمبر دو ہزار میں ٹیکس سروے، تاجروں کی ملک گیر ہڑتال اور حکومتی سرپرستی میں تاجروں کی ایک نئی تنظیم کے قیام کی بنیاد بنا۔ جونہی تاجر وفد کے ساتھ ملاقات ختم ہوئی اور حاجی مقصود بٹ اور دیگر تاجر رخصت ہوئے تو شوکت عزیز نے عابد سعید اور مجھ سے حاجی مقصود بٹ کے تعریفی کلمات کی حقیقت کے بارے میں پوچھا کہ کیا ان سے پہلے پاکستان میں اچھا وزیر خزانہ نہیں آیا۔ تو میں نے بتایا کہ تاجر رہنما ایسے فقرے ہر نئے وزیر خزانہ کے بارے میں کہتے رہے ہیں۔ تو شوکت عزیز بولے کہ ان کا بھی یہی خیال تھا۔ ا س ملاقات کے بعد شوکت عزیز سے جو تعلق بنا وہ ان کے وزیر اعظم بننے تک قائم رہا۔

    (جاری ہے)

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here