خار زار صحافت۔۔۔قسط ایک سو تریپن

0
78


گندم کی کٹائی اور چاندی کی درانتی
تحریر: محمد لقمان
مئی دو ہزار پانچ کے اوائل کی بات ہے۔ جنرل مشرف کا دور نصف النہار پر تھا۔ وزیر اعظم شوکت عزیز نے ضلع اوکاڑہ میں مظہر آباد کے فارم میں گندم کی کٹائی کا رسمی افتتاح کرنا تھا۔ اس کے لئے لاہور کے صحافیوں کی ایک ٹیم کو اوکاڑہ کوریج کے لیئے لے جایا گیا۔ کوسٹر میں انگریزی اور اردو اخبارات کے علاوہ نیوز ایجنسنز سے تعلق رکھنے والے صحافی موجود تھے۔ مجھے یاد ہے کہ اس ٹیم میں دی نیوز کے مائید علی ، نیشن سے نذیر بھٹی کے علاوہ اس وقت کسی اردو اخبار سے منسلک اسرار بخاری بھی شامل تھے۔ خیر دو ڈھائی گھنتے کے سفر کے بعد فارم پر پہنچ گئے۔ تقریب کا آغاز ہوا تو وزیر اعظم شوکت عزیز کو چاندی کی بنی ہوئی درانتی پیش کی گئی۔ پیش کرنے والے اس وقت کی وفاقی کابینہ میں شامل وزیر دفاع راو سکندر اقبال اور ان کے کزن راو اجمل خان تھے۔ وزیر اعظم نے گندم کی ملک گیر کٹائی کا افتتاح کردیا۔ اس موقع پر تقریب سے خطاب میں انہوں نے ملکی معیشت کا ترقی خوب ذکر کیا اور پاکستان کو گندم میں خودکفیل بنانے کے علاوہ اس کی برآمد کرنے کے پلان کا بھی اعلان کردیا۔ اوکاڑہ میں ایک یونیورسٹی کے قیام اور دیپالپور میں سوئی گیس کی فراہمی کا مطالبہ بھی مان لیا گیا۔ عموماً ایسی تقریبات پر حکمرانوں کی ایسی ہی تقریر یں ہوتی ہیں۔ جہاں تک راو سکندر اقبال کا معاملہ تھا تو انہوں نے اس تقریب کو اپنی اور اپنے خاندان کی سیاسی طاقت کو بڑھانے کے لیئے استعمال کیا تھا۔ اس سے پہلے وہ شوکت عزیز کے پیش رو ظفراللہ خان جمالی کو بھی گندم کی کٹائی کے افتتاح کے لئے بلا چکے تھے۔ اور ان کو بھی چاندی کی درانتی ہی پیش کی گئی تھی۔ موجوہ یاد نہیں کہ وہ چاندی کی درانتی مہمان خصوصی کے ساتھ چلی جاتی تھی یا کہ اگلے سال اگلے حکمران کو پیش کرنے کے لیئے رکھ لی جاتی تھی۔ مگر درانتی کو پیش کرنے کا یہ عمل میڈیا پر کافی کوریج پاتا تھا۔ تیز ہوائیں چلنے کی وجہ سے تقریب کو جلدی سے ختم کردیا گیا۔۔اس کے بعد واپسی کا سفر شروع ہوچکا تھا۔ مگر کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ سفر ایک عجیب واقعے کی وجہ کے سبب سب کے لئے یادگار بن جائے گا۔ ٹھوکر نیاز بیگ کے قریب لاہور کی حدود میں داخل ہونے ہی والے تھے کہ کوسٹر کے پیچھے سے یکدم ایک کار آئی اور اس نے راستہ روک لیا۔ سفید شلوار قمیص میں ملبوس ایک درمیانی عمر کا شخص باہر نکلا ۔ اس نے پستول نکالا اور کوسٹر کے ڈرائیور کی کنپٹی پر تان لیا۔اس کے پاس بڑا عجیب سا جواز تھا کہ کوسٹر کو اس کی کار کے آگے کیوں لے گئے ہو۔ وہ شخص پشتو اور اردو میں گالیاں بھی دے رہا تھا۔ ہر کوئی پستول دیکھ کر اپنی اپنی سیٹ میں دبک گیا تھا۔کئی منٹ تک بحث سننے کے بعد رپورٹر اسرار بخاری آؒخر کار آگے بڑھے اور مسلح شخص سے پوچھا کہ مسئلہ کیا ہے۔ تو اس نے ڈرائیور کی کنپٹی سے پستول ہٹا کر اسرار بخاری کے سر پر تان لیا۔ ایک عجب صورت حال تھی ۔ سب کے جیسے لب سل گئے تھے۔ ہر کسی کے لبوں پر دعا تھی کہ یہ بلا ٹل جائے۔اسی دوران پیچھے سے ایک ایمبولینس کی آواز آئی۔ خوش قسمتی یہ رہی کہ اس شخص نے اس آواز کو پولیس کی گاڑی کا ہوٹر سجمھا اور رفو چکر ہوگیا۔ یوں سب کی جان بچ گئی۔ شراب میں دھت شخص چاہتا تو وہ کوسٹر میں بیٹھنے سب افراد یا کم ازکم اسرار بخاری یا ڈرائیور پر فائر کھول سکتا تھا۔ مگر قدرت نے محفوظ رکھنا تھا۔ اس کے بعد بھی کئی مرتبہ گندم کی کٹائی کی تقریب کی کوریج کے لئے اوکاڑہ یا قصور کے اضلاع میں جانا پڑا مگر ٹھوکر نیاز بیگ کے قریب نہر کنارے پہنچنے پر وہ مسلح شخص ضرور یاد  آیا۔
( جاری)

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here