خار زار صحافت۔۔۔ قسط ایک سو تریسٹھ

0
1744

زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے

تحریر:  محمد لقمان

انیس سو نوے کی دہائی میں زیادہ تربڑے انگریزی اور اردو  اخبارات اور جریدوں  کے صدر دفاتر تو کراچی میں تھے۔۔ مگر لاہور کی صحافت کا آسمان بڑے  روشن ستاروں سے بھرا ہوا تھا۔ ان میں  صحافتی تنظیموں کے سرخیل نثار عثمانی، آئی ایچ راشد، حسین نقی ، راجہ اورنگ زیب شامل تھے ۔۔ تو پیشہ ورانہ طور پر بڑے صحافی بھی کم نہ تھے۔ جن میں مجید نظامی، حسین نقی، عارف نظامی،  ایم اے نیازی، مجیب الرحمان شامی اور ضیا شاہد  جیسے لکھاری بھی موجود تھے۔ گویا کہ صحافتی میدان میں تبدیلیوں کے اس دور میں سیکھنے کے لئے اساتذہ کثرت میں دستیاب  تھے۔ اے پی پی کے بیورو چیف سلیم بیگ کے علاوہ عزیز جمال اور آفتاب گیلانی بھی صحافت کی دنیا کا سرمایہ تھے۔

ورکنگ جرنلسٹس میں ڈان اخبار کے محمود زمان ، نیوز کے مائید علی ، روزنامہ پاکستان کے اختر حیات کے ساتھ مل کر فیلڈ میں کام کرنے کا بھی اپنا ہی مزہ تھا۔۔۔ سپورٹس کےمیدان  میں نیشن کے ایس اے بخاری، نیوز کے امتیاز سپرا، اے پی پی کے فواد ھاشمی اور ڈان کے الیاس بیگ کا طوطی بولتا تھا۔ کرائم میں جمیل چشتی، نعیم مصطفی ، ثقلین امام، اویس ابراہیم کے نام جانے جاتے تھے۔ کامرس  میں نوائے وقت کے طاہر ملک، ڈان کے شوکت علی  اور جنگ کے احمد مسعود سودی کا ڈنکا بجتا تھا۔  اس زمانےمیں حکمرانوں کے بہت قریب صحافیوں میں نواب انور قدوائی ، پرویز بشیر اور سعادت خیالی سمجھے جاتے تھے۔ مذہبی جماعتوں کی بیٹ میں جنگ کے امتیاز راشد کا نام تھا۔

 محنت اور ایمانداری کے نشان پی پی آئی کے چاچا رفیق میر کا ذکر نہ کیا تو بہت ظلم ہوگا۔۔۔ پہلے مال روڈ اور بعد میں شادمان کے دفتر میں جب وہ کام کرتے نظر آتے تو ان کو دائیں بائیں کا کوئی پتہ نہیں ہوتا تھا۔ کئی مرتبہ کھانے کو چھوڑ کر پہلے خبر کو مکمل کرتے۔

پیدل چل کر سیکریٹیریٹ سے ہر روز بڑی خبر لانے والے رحمت علی رازی کا بھی نام تھا۔ پاکستان ٹائمز کے بھاری بھر کم اصغر بٹ جب لمبریٹا سکوٹر پر سوار ہو کر کسی پریس کانفرنس میں آتے تو ہر کسی نظر کا مرکز بن جاتے۔ اس زمانے کے نوجوان صحافیوں۔۔۔ حسیب حیدر ، زاہد بیگ ، قمر جبار اور محمد اکرم سے ہماری گاڑھی چھنتی تھی۔ گویا کہ موجودہ دور کی افراتفری نہیں تھی۔ اخبار کے صحافی کے لئے خبر فائل کرنے کے لئے بارہ گھنٹے سے زائد وقت ہوتا تھا۔ اخبارات کے رپورٹرز زیادہ تر وقت لاہور پریس کلب میں بیٹھے رہتے اور جب فرصت ملتی تو اخبار میں جا کر خبر فائل کردیتے۔ وہ ہر وقت کی بے چینی کسی سطح پر بھی نظر نہیں آتی۔۔ البتہ الیکٹرونک میڈیا اور نیوز ایجنسیوں میں کام اس وقت بھی نسبتاً تیز تھا۔ میری کوشش ہوتی تھی کہ پریس کانفرنس یا سیمینار کے ختم ہونے کے پندرہ سے تیس منٹ  بعد اے پی پی کی خبر کی کم از کم پہلی ٹیک اخبارات اور پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان کے نیوز ڈیسک پر پہنچ جائے ۔ زیادہ تر اوقات میں یہ ھدف حاصل ہو جاتا تھا۔

اب صرف اس دور کی یادیں ہی رہ گئی ہیں۔۔ کیونکہ اس دور کے بہت سارے سینیر صحافی اس دنیا میں نہیں رہے ۔ اگر زندہ ہیں تو عملی صحافت سے نکل گئے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here