خار زار صحافت۔۔۔ قسط ایک سو باسٹھ

0
761

نام کے ابتدائی حروف۔۔۔۔اے پی پی کے صحافیوں کی پہچان

تحریر: محمد لقمان

دنیا بھر کی خبررساں ایجنسیوں اور اخبارات  میں سوائے بڑی خبر اور فیچرز کے صحافی کا نام یا بائی لائن نہیں ہوتی۔ اخبارات میں تو سیاسی رپورٹر، کامرس رپورٹر یا ہمارے نمائندے سے ۔۔۔جیسے الفاظ نظر آجاتے ہیں۔۔۔ مگر پاکستان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی، ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) میں ایسا بالکل نہیں ہوتا تھا۔ زیادہ تر مواقع پر صحافی پلے بیک سنگر ہی ہوا کرتے تھے۔ شروع میں چونکہ صرف انگریزی سروس تھی تو اردو اخبارات ترجمہ کرتے ہوئے تو فیچر کی بائی لائن بھی اڑا دیتے تھے اور عجب احساس محرومی ہوتا تھا۔ مگر اے پی پی کے اندر ضرور ایک دوسرے کی پہچان کا ایک ذریعہ موجود تھا۔ وہ تھے خبر کے آخر پر رپورٹر اور سب ایڈیٹر کے نام کے پہلے حروف یا انیشلز۔۔۔ جب میں نے انیس سو نوے میں اے پی پی جائن کی تو سنٹرل ڈیسک پر کچھ دیر کام کرنےکو موقع ملا تو وہاں خبروں کے اختتام پر  جو انیشلز آتے تھے ان میں ایف این، اے ایف ٹی، اے جی ، زیڈ ایم ، ایل اے ٹی اور جے اے ایل وغیرہ وغیرہ شامل ہوتے۔ پتہ چلا کی ایف این سے مراد فاروق نثار ہیں جو کہ اے پی پی کے ڈٖائریکٹر جنرل تھے۔ اے ایف ٹی ایم آفتاب ڈائریکٹر نیوز ، اے جی عبدالغنی چوہدری جو کہ چیف رپورٹر تھے، ایل اے ٹی لیاقت علی طور ، زیڈ ایم خان زمان ملک اور جے اے ایل جلال الدین تھے۔۔جے اے ایل کو کئی لوگ جاپان ایئر لائن کہہ کر بھی پکارتے۔۔۔ ہم نئے پنچھیوں کو بھی اپنے انیشلز  بنانے کا کہا گیا تو بڑے مزے کے بنے۔۔۔میرے انیشلز ایم ایل، علی عمران کے آئی ایم آر،  مسرور محسن گیلانی ایم ایم جی، ذیشان حیدر کے زی، آمنہ حسن کے اے ایچ ، عظیم احمد خان اے زی ایم وغیرہ وغیرہ۔۔۔ شفیق احمد قریشی نے انگریز کا روپ دھارتے ہوئے ایس ای کے کو اپنا لیا۔ ہمارے پیارے دوست کریم مدد کے ایم ڈی بن گئے۔

انیس سو اکیانوے میں لاہور بیورو میں آیا تو بیوروچیف سلیم بیگ کے انیشلز ایس بی، چیف رپورٹر دوست محمد یوسفی ڈٖی ایم وائی، ڈیسک انچارج آفتاب گیلانی اے جی، عزیز جمال صاحب اے جے، سید فواد ہاشمی ، سپورٹس رپورٹر ایس ایف ایچ، سینیر کورٹ رپورٹر فیض الرحمان ایف آر، رپورٹر قمراللہ (چوہدری) کیو ایم آر، رپورٹر محمد فیاض ( چوہدری) ایف اے سی، رپورٹر محمود احمد خان ایم اے کے ( جو کہ بعد میں میک لودھی کہلانے لگے) ، سپورٹس رپورٹر محمد سہیل علی اور ڈٖیسک پر ظہورالدین بٹ ، زیڈ ڈی بی، راجہ فضل حسین آر ایف ایچ، افتخار احمد علوی آئی اے اے، ان کے بھائی نثار احمد علوی ، این اے اے ۔۔۔ ان ناموں کی وجہ سے کئ مرتبہ ایک دوسرے کو چھیڑا بھی جاتا ۔۔۔ ایک صاحب اپنے نام کے پہلے دو حروف ڈبلیو سی لکھتے تھے۔ کئی دوستوں نے اس کی وجہ سے ان کے نت نئے نام تجویز کردیے۔۔۔ دوست محمد یوسفی کے ڈی ایم وائی کو عام طور پر رپورٹرز آپس میں ڈمی کہہ کر پکارتے ۔ ایک دفعہ کسی نے ڈمی کہنے پر ان کو مخبری کردی تو بہت ناراض ہوئے۔۔۔ بڑا مزے کا ماحول تھا ۔ ناراضگی بھی رہتی تھی اور دوستی بھی۔۔۔ ایک سٹیشن کے لوگوں کی تو ایک دوسرے سے ملاقات ہوجاتی تھی۔ مگر کراچی، پشاور اور کوئٹہ کے ساتھیوں کی پہچان تو ان کے ناموں کے انیشیلز ہی ہوتے تھے۔ جن کو پڑھ کر ان کی خیر خیریت کا پتہ چل جاتا تھا۔  کچھ سال بعد سب کو نام کے دو حروف کی بجائے تین حروف استعمال کرنے کا کہا گیا تو اکثر لوگوں نے اپنی برادری کا پہلا حرف بھی انیشلز میں شامل کرلیا۔ میرا نام بھی ایم ایل کی بجائے ایم ایل ایس ہوگیا تھا۔ وسیم فاطمہ کے انیشل ڈبلیو اے ایف کی بجائے ایس ڈبلیو ایف ہوگئے۔ جتنے رپورٹرز چوہدری تھے انہوں نے سی شامل کر لیا تھا۔ رپورٹرز کے علاوہ سب ایڈیٹرز اور ٹیلی پرنٹر آپریٹرز کے ناموں کے انیشلز بھی خبر کے نیچے ہوتے تھے۔ یہ سلسلہ اے پی پی کی کمپیوٹرائزیشن کے بعد بھی چلتا رہا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here