خار زارصحافت،،،قسط ایک سو پینسٹھ

0
165

مشرف کے زوال کا آغاز

تحریر: محمد لقمان

نو مارچ دو ہزار سات کا دن تھا۔ بظاہر ملک میں ہر معاملہ قابو میں نظر آ رہا تھا۔ جنرل پرویز مشرف کے اقتدار کا سورج نصف النہار پر تھا، اور یوں محسوس ہوتا تھا جیسے راوی چین ہی چین لکھ رہا ہو۔

اے پی پی لاہور بیورو کے رپورٹرز روم میں ہم سب خوش گپیوں میں مصروف تھے کہ اچانک ہمارے ساتھی رپورٹر رب نواز باجوہ کو اسلام آباد سے ایک فون کال موصول ہوئی۔ اس نے فون رکھتے ہی اطلاع دی کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو عہدے سے معطل کر دیا ہے۔

یہ خبر سنتے ہی کمرے میں یکدم سناٹا چھا گیا۔ سبھی چونک اٹھے کہ آخر اس نازک موڑ پر ایسی کیا مجبوری پیش آ گئی تھی؟ رب نواز باجوہ نے پُراعتماد لہجے میں کہا کہ مشرف کی کلا ابھی چڑھتی ہے، کچھ نہیں ہوگا، اس طاقتور شخص کے سامنے کون ٹھہر سکتا ہے؟

میں نے اس خیال سے اختلاف کیا اور کہا کہ اس وقت مشرف کے سامنے جو بھی کھڑا ہوگا، وہی عوام کی نظر میں ہیرو بن جائے گا۔ آنے والے دنوں نے ثابت کر دیا کہ یہ اندازہ غلط نہ تھا۔

اگرچہ اس وقت تک الیکٹرانک میڈیا خاصا طاقتور ہو چکا تھا، مگر خبریں اب بھی عوام تک اس طرح پہنچتی تھیں جیسے سموگ کی دبیز تہہ سے چھن کر روشنی پہنچتی ہو۔

یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہ تھی کہ جنرل پرویز مشرف اور وزیر اعظم شوکت عزیز کی حکومت چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے جوڈیشل ایکٹوازم سے ناخوش تھی۔ مشرف کے اپنے منتخب کردہ وزیر اعظم شوکت عزیز پاکستان اسٹیل ملز کی نجکاری کے خلاف فیصلے پر سخت برہم تھے۔ وزیر اعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم منو بھیل کیس میں ازخود نوٹس کی زد میں آ چکے تھے، جبکہ سب سے اہم معاملہ یہ تھا کہ مشرف کی آنکھیں اور کان سمجھے جانے والے خفیہ ادارے لاپتہ افراد سے متعلق چیف جسٹس کے نوٹسز سے سخت نالاں تھے۔

یہ بھی ایک حقیقت تھی کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کوئی دودھ کے دھلے انسان نہیں تھے۔ ان پر نیپوٹزم کے الزامات، خصوصاً بیٹے ارسلان افتخار چوہدری کے حوالے سے، سینہ گزٹ کے ذریعے میڈیا میں گردش کر رہے تھے۔

نو مارچ 2007 کی صبح چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو ملاقات کے لیے آرمی ہاؤس راولپنڈی طلب کیا گیا۔ جب وہ سپریم کورٹ سے روانہ ہوئے تو راستے میں جسٹس جاوید اقبال اور جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے ان سے ایک خصوصی ملاقات کی۔

اس ملاقات کے بعد افتخار چوہدری کے شکوک مزید گہرے ہو گئے اور وہ متوقع صورتحال کا اندازہ لگاتے ہوئے آرمی ہاؤس پہنچے۔

آرمی ہاؤس میں جنرل پرویز مشرف نے اس وقت کے وزیر اعظم شوکت عزیز، آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل اشفاق پرویز کیانی، ڈی جی ملٹری انٹیلیجنس میجر جنرل اعجاز ندیم میاں، ڈی جی انٹیلیجنس بیورو بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ اور اپنے چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل (ر) حامد جاوید کے ہمراہ چیف جسٹس سے ملاقات کی۔

چیف جسٹس کو ان کے خلاف الزامات پڑھ کر سنائے گئے اور ان سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ افتخار محمد چوہدری نے صاف انکار کر دیا۔ اس کے بعد جنرل پرویز مشرف کمرے سے نکل گئے اور کراچی روانہ ہو گئے، جہاں انہیں پاکستان نیوی کی ایک تقریب میں شرکت کرنا تھی۔

مشرف کی روانگی کے بعد جنرل کیانی کے سوا باقی تمام افسران نے چیف جسٹس پر استعفیٰ دینے کے لیے ہر ممکن دباؤ ڈالا، جس کا ذکر افتخار محمد چوہدری نے بعد ازاں سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے اپنے حلف نامے میں بھی کیا۔

چیف جسٹس کو کم از کم پانچ گھنٹے تک آرمی ہاؤس سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

دوسری جانب ان کی برطرفی کی خبر میڈیا پر نشر کر دی گئی۔ قائم مقام چیف جسٹس کے طور پر رانا بھگوان داس کے بعد سینیئر جج جسٹس جاوید اقبال نے حلف اٹھا لیا اور بطور سربراہ سپریم جوڈیشل کونسل نہ صرف صدارتی ریفرنس فوری طور پر قبول کر لیا بلکہ 13 مارچ کو افتخار محمد چوہدری کو کونسل کے روبرو پیش ہونے کا حکم بھی جاری کر دیا۔

اُدھر افتخار چوہدری جب پولیس اور سکیورٹی کے حصار میں آرمی ہاؤس سے نکالے گئے تو انہوں نے اپنے ڈرائیور کو سپریم کورٹ لے جانے کا کہا، مگر سکیورٹی کے دباؤ کے باعث انہیں سپریم کورٹ کے بجائے ان کے گھر پہنچا کر نظربند کر دیا گیا۔

یوں مشرف کے زوال کا آغاز ہو چکا تھا، اور اس زوال کی بنیاد خود مشرف اور اس کے گرد جمع طاقت کے مراکز نے رکھی تھی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here