سچ یہ بھی ہے۔۔۔۔ذيابيطس کے ساتھ زندگي

0
3138

تحریر: محمد لقمان
جتنے ہم لاپرواہ لوگ ہیں اس کی وجہ سے ذيابيطس ميں مبتلا ہونے کا پتہ کئي مرتبہ سالہا سال نہيں چلتا۔ جب تک واضح علامات نہيں آتيں۔ کوئي بھي شخص اپنے آپ کو شوگر کا مرض تسليم کرنے کو تيار نہيں ہوتا۔ اور کئی لوگ تو اس بیماری میں مبتلا ہونے کے باوجود بھی کسی کو اپنی مجبوری کا نہیں بتاتے۔ يہي وجہ ہے اکثر لوگ ڈاکٹر کے پاس اس وقت جاتے ہيں۔ جب ذيابيطس ان کے جسم کے کسي نہ کسي حصے کو نقصان پہنچا چکي ہوتي ہے۔ ذیابیطس کے مرض کا پتہ چل بھی جائے تو لوگ انسولین کا ٹیکہ لگانے سے احتراز کرتے ہیں۔ اکثر کی سوچ ہے کہ انسولین بیماری شدید ہونے کی صورت میں لگانی چاہیے۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ گولی کھانے سے نہ صرف گردے تباہ ہوتے ہیں بلکہ جگر پر بھی برا اثر پڑتا ہے۔ انسولین کا لگانا بہر حال گولی سے بہتر ہے۔راقم الحروف کو شوگر ميں مبتلا ہونے کا تقريبا دس برس پہلے اس وقت پتہ چلا جب ايک شادي کي تقريب ميں کلو بھر رس گلے پيٹ ميں جا چکے تھے اور ان کي وجہ سے ہاتھ اور پاوں فري فلوٹ حالت ميں تھے۔ جب ڈاکٹر نے بیماری کی تصدیق کی تو تب بھی دل نہیں مان رہا تھا۔ايسي بے احتياطي آبادي کي اکثريت ميں پائي جاتي ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ہر دسواں پاکستاني ذيابيطس کا مريض ہے۔ جن ميں اکثر دوائي کا استعمال اس وقت کرتے ہيں جب صورتحال کنٹرول سے باہر چلے جائے۔ يہيں وجہ ہے کہ کرکٹر وسيم اکرم جو کہ ذيابيطس کے مريض ہيں، کي طرح ہر کوئي فٹ نہيں رہتا۔ صبح سويرے دير سے اٹھنا ، ہر طرح کي بے احتياطي اور دوا کا بر وقت استعمال نہ ہونے کي وجہ سے ذيابيطس کي وجہ سے انسان کے کسي نہ کسي حصے ميں کوئي نہ کوئي درد اٹھتا ہي رہتا ہے۔ کسي کا ہاتھ کي انگلي کاٹني پڑتي ہے تو کسي کا پاوں۔ ذیا بیطس کا مقابلہ کرنا کوئی بڑی بات نہیں۔ اگر کوئي اپني زندگي ميں ترتيب اور نظم و ضبط لے آئے تو ذيابيطس کوئي مہلک اور خطر ناک بيماري نہيں رہتي۔ يہي وجہ ہے کہ ذيابيطس کو ختم تو نہيں کيا جاسکتا کنٹرول ضرور کيا جاسکتا ہے۔ حال ہي ميں امريکہ کي ايک يونيورسٹي کے سائنسدانوں نے ذيابيطس کي ٹائپ ون کے خلاف ايک ويکسين بنانے کا دعوي کيا ہے۔ جس کے ٹرائل اگلے سال شروع کيے جارہے ہيں۔ اس ويکسين کي وجہ سے بچوں ميں ذيابيطس کا مرض نہيں ہوسکے گا۔ دو دہائي پہلے ايسي ہي ايک ويکسين کا تجربہ فن لينڈ ميں ہوا تھا مگر کاميابي نہيں ہوسکي تھي۔ اگر اس بار يہ تجربہ کامياب ہوگيا تو شايد پوليو کي طرح ذيابيطس کي ٹائپ ون پر بھي قابو پايا جاسکے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here