سچ یہ بھی ہے۔۔۔کرونا نے دنیا بند کردی۔۔۔۔قسط سوم

0
1691

تحریر: محمد لقمان

کرونا وائرس اپنے عالمگیری پھیلاو کی وجہ سے انسانی تاریخ کی بدترین وباوں میں سے ایک وبا کے طور پر ہمیشہ جانا جائے گا۔ گذشتہ صدی یا اس سے پہلے جتنی وبائیں آتی رہیں۔انسان کے پاس ایک بہانہ ہوتا تھا۔ کہ ٹیکنالوجی اتنی ترقی نہیں کرسکی تھی کہ کسی بھی انفکشن کے لئے اینٹی باییوٹک یا ویکسین تیار ہوسکے۔ اب جبکہ دنیا میں ہیپا ٹائٹس سمیت ہر قسم کی وائرل بیماری کے خلاف ویکسین تیار ہیں۔ بائیوٹیکنالوجی، نینو ٹیکنالوجی اور جینیٹکس میں انسان بہت آگے جا چکا ہے۔ کرونا وائرس کوئی نیا جرثومہ نہیں۔ اس سے پہلے بھی اس کی وجہ سے وبائیں سارس اور مرس کی شکل میں آچکی ہیں۔مگر اس بار دنیا کا بے بس نظر آیا بڑا حیرت انگیز ہے۔ انسان ایسے مر رہے ہیں۔ جیسے مکھیاں یا چیونٹیاں۔ یہ وائرس نہ طاقتور کو دیکھ رہا ہے نہ کمزور کو۔ نہ وزیر کو نہ مزدور کو۔ ہر کوئی اس کے آگے مغلوب ہے۔ برطانیہ کا وزیر اعظم بورس جانس موت کے منہ سے واپس آیا ہے۔ جبکہ پاکستان کے صوبے سندھ کے وزیر اعلی کا بہنوئی وائرس کی وجہ سے جاں بحق ہوگیا ہے۔ یہ وائرس انسانی موت کے ساتھ ساتھ ثقافت اور معیشت کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ حال ہی میں وائرل ہونے والی ایک وڈیو میں دنیا بھر کی عبادت گاہوں، کاروباری مراکز اور ثقافتی جگہوں کو کورونا کے ہاتھوں ویران ہوتے دکھایا گیا ہے۔ اس کے پس منظر میں دردناک فارسی گیت اور موسیقی اس کو مزید پر اثر بنا دیتے ہیں۔ دنیا کی معاشی حالت تو اس سے کہیں زیادہ بگڑتی نظر آتی ہے۔ اقوام متحدہ کی مختلف ایجنسیوں کے ایک اندازے کے مطابق سال دو ہزار بیس میں کرونا وائرس کی وجہ سے عالمی معیشت کو دو ہزار ارب ڈالرز کا نقصان متوقع ہے۔ جو وبا کے دیر تک رہنے کی وجہ سے اس سے بھی کہیں بڑھ سکتا ہے۔ پاکستان جیسے کمزور معیشت کے مالک ممالک پر اس کے انتہائی برے اثرات نظر آنا شروع ہوگئے ہیں۔ لاہور اور کراچی کی سڑکوں پر گھومتے بیلچہ بردار بظاہر تو بھیک مانگتے ہیں۔ مگر انکار کی صورت میں گاڑیوں پر حملے کے واقعات بھی رپورٹ ہوچکے ہیں۔ حکومتی امداد کے متلاشی رقم کے حصول کے لئے ایک دوسرے کو پاوں تلے کچل رہے ہیں۔ امریکہ نے تو اپنی معیشت کو دباو سے بچانے کے لئے دو ٹریلین ڈالرز کا ایک پیکج دے دیا ہے۔ مگر بھارت اور پاکستان کے لئے اتنا کچھ کرنا ممکن نہیں۔ دونوں ممالک میں لاک ڈاون کی وجہ سے گندم کی فصل کی کٹائی نہ ممکن ہوتی جا رہی ہے۔ اگر اگلے پندرہ سے بائیس روز میں کٹائی نہ ہوئی تو اربوں ڈالرز مالیت کی فصل تباہ ہوجائے گی۔ ان حالات میں کمزور ممالک کے لئے ہر طرف موت ہی کھڑی ہے۔۔۔کرونا وائرس کے ہاتھوں موت یا معاشی بگاڑ کی صورت میں فاقوں سے موت۔ اگر وبا اگلے دو سے تین ماہ میں ختم بھی ہوجائے تو دنیا کی معیشت کو سنبھلتے سنبھلتے بھی تین سے چار سال لگ جائیں گے۔ اور جو دنیا اس کے بعد سامنے آئے گی۔ وہ یقینا موجودہ دنیا سے بہت مختلف ہوگی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here