نیلگوں معیشت اور پاکستان: قسط دوم

0
61


تحریر: محمد لقمان

ماضی کی تمام تر کوتاہیوں کے باوجود بھی پاکستان کے پاس ابھی بھی سمندری وسایئل کو برویئے کار لانے کے وسیع مواقع ہیں۔۔ہمارے ملک کا کل ساحلی رقبہ 1050 کلومیٹر ہے، جو صوبہ سندھ کے رن آف کچھ سے بلوچستان کے ضلع گوادر میں جیوانی تک جاتا ہے جو کہ قدرتی مناظر اور سیاحتی مقامات سے بھرا ہوا ہے۔ اس میں مختلف قسم کے ریت کے ساحل، چٹانیں، ہیڈ لینڈز، ڈیلٹا، جزیرے، کیچڑ کے آتش فشاں، شاہراہیں وغیرہ شامل ہیں جو ہر طرح کی سمندری اور تفریحی سرگرمیوں کا مرکز ہیں۔ مزید برآں پاکستان کے ساحلوں کو بھی زیادہ سے زیادہ سیاحوں کو راغب کرنے کے لئے دریائی کھیلوں جیسے بوٹنگ، ڈائیونگ، سنورکلنگ، جیٹ اسکیئنگ، کروز اور سکوبا کے مواقع اور اسکی دستیابی کی ضرورت ہے
پاکستان کی سمندری معیشت کے مذکورہ بالا بڑے شعبوں کے علاوہ دیگر متعلقہ ڈاون اسٹریم انڈسٹریز جیسے سمندری وسائل کا پائیدار استعمال، قابل تجدید توانائی اور سمندر میں توانائی کے وسائل بشمول پیٹرولیم اور گیس کے ذخائر کی دریافت کے مواقع ہیں۔ لیکن اس سے فائدہ حاصل کرنے کے لئے ایک جامع پالیسی اور مطلوبہ انفراسٹرکچر کی ضرورت ہے۔ اس وقت پاکستان میں ان دونوں کا فقدان ہے۔ اس سلسلے میں سی پیک پلیٹ فارم اور چین کی مدد پاکستان کی نیلگوں معیشت کو استوار کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔
ایک نہایت اچھا ساحلی ملک ہونے کے باوجود، پاکستان سمندری غیرفعالیت کا شکار ہے پاکستان کی سمندری معیشت سمندری نقل و حمل کے شعبے میں بھی بڑی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔اس وقت پاکستان کے پاس گڈانی میں صرف 12بحری جہاز اور ایک جہاز توڑنے والا یارڈ موجود ہے۔ پاکستان کا فریٹ بل سالانہ 5 بلین ہے۔ گوادر میں نئے شپ یارڈ کی تعمیر اور گوادر بندرگاہ سے چائنہ اوشین شپنگ کمپنی (سی او ایس سی او) کی جانب سے باقاعدہ شپنگ سروس اور سی پی ای سی کے تحت سندھ میں کیٹی کی بندرگاہ کی ترقی ہمارے سمندری نقل و حمل کے شعبے کے لئے ایک نئے دور کا آغاز کرے گی۔ اس سے دیگر متعلقہ صنعتوں جیسے جہاز سازی، جہاز توڑنے، سمندری جہاز سازی، آبی زراعت، معدنیات اور آف شور بیسن کی ترقی کے لئے بھی ایک قابل عمل میدان بنائے گا جو نہ صرف ہماری بندرگاہوں اور سمندری نقل و حمل کو اہمیت دے گا بلکہ لاکھوں کی تعداد میں ملازمت اور روزگار کے مواقع بھی پیدا کرے گا۔
پاکستان مندرجہ ذیل وجوہات کی بنائپر سمندری غیرفعالیت کا شکار ہے۔ پاکستان کے پاس جولائی 2020 تک سمندری معیشت کی فراہمی کے لئے کوئی جامع پالیسی نہیں تھی۔ ماضی میں پی ٹی آئی حکومت نے بلیو اکانومی پالیسی 2020 کا اعلان کیا مگر اس پر کورونا کی وبا اور سیاسی وجوہات کی بنا پر عمل درآمد شروع نہ ہوسکا۔ اب ایک متوازی جامع سمندری ماہی گیری کی پالیسی کی ضرورت ہے۔ واضح اور صاف پالیسی کی عدم موجودگی کی وجہ سے پاکستان کی نیلی معیشت نہ تو نجی سرمایہ کاروں کو راغب کرسکتی ہے اور نہ ہی خود ترقی کے دوازوں سے داخل ہوسکتے ہیں۔نیلگوں معیشت کی طرف حکومت کی خصوصی توجہ ہی سمندری معیشت راہ میں ان پالیسی سطح کی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے نتیجہ خیز ثابت ہوگی۔ اس کے علاوہ بنیادی ڈھانچے کی وسیع ترقی، بندرگاہوں کی ترقی اور شپ یارڈ کی تعمیر بھی بہت ضروری ہے۔ مگر اس وقت جن معاشی مسائل کا سامنا ہے۔۔۔اس کی وجہ سے پاکستان اتنی زیادہ سرمایہ لگانے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ اگر ملک کے موجودہ وسائل کی بات کی جائے تو اس وقت صرف دو بندرگاہیں اور ایک جہاز یارڈ کام کررہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان سمندری شعبے کے سارے فوائد نہیں اٹھا سکتا ہے۔ بین الاقوامی معیار پر مچھلی کی پکڑنا، نقل و حمل اور پیکنگ کے مناسب میکانزم کی عدم فراہمی ماہی گیری کی صنعتی ترقی کی راہ میں کافی حد تک رکاوٹ بناتی ہے۔ مزید یہ کہ، سمندری ماہی گیری کی جامع پالیسی کی عدم موجودگی سمندری معیشت کو مکمل طور پر فائدہ پہنچانے کے لئے بھی ایک رکاوٹ ہے۔سمندری شعبے میں تحقیق اور ترقی کی کمی کی وجہ سے، ماضی میں پاکستان کی معیشت میں کوئی مثبت پہلو نہیں دکھا سکا۔ متعلقہ وزارتوں کے مابین مواصلات اور ہم آہنگی کا فقدان بھی پاکستان کی بلیو اکانومی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ لگ بھگ 43 وفاقی اور صوبائی محکمے سمندری شعبے سے متعلق ہیں۔ اگر نجی شعبے کو بھی ساتھ ملا لیا جائے تو پاکتان میں بلیو اکانومی کی ترقی کا خواب پورا ہوسکتا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here