مہاتیر کے دیس میں ۔۔۔۔۔قسط چار

1
4141

تحرير: محمد لقمان

جڑواں ٹاورز۔۔۔۔ملائشيا کي پہنچان

جونہي آپ  جڑواں ٹاور کے قريب پہنچتے ہيں۔۔تو ہر رنگ و نسل سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد آپ کو نظر آتے ہيں۔ سوريہ کے ايل سي سي کمرشل سينٹر میں بھی لوگ شاپنگ کے لئے جاتے ہيں۔  مگر زيادہ تر کي کوشش ہوتي ہے کہ پيٹروناس ٹون ٹاورز کے سامنے سيلفي بنا سکيں يا اس کي وڈيو بنائيں۔  کہيں مختصر لباس ميں يورپ سياح جڑواں ٹاورز کے سامنے تصاوير بنانے ميں مگن ہوتے ہيں تو کہيں پورے حجاب ميں ملائشين اور عرب خواتين بيسويں صدي کے اوخر ميں تعمير کي گئي عمارت کي تعميراتي خوبصورتي کا گن گاتے دکھائي ديں گے۔گویا کہ جس نے جڑواں ٹاورز نہیں دیکھے اس نے کوالالمپور میں کچھ نہیں دیکھا۔ یہ سیاح بہت سارے ایسے ملائشین نوجوانوں کی روزی روٹی کا بھی ذریعہ ہیں جو 20 رنگٹس کے عوض آپ کو ايسا لينز کرائے پر دے ديتے ہيں جس کي وجہ سے آپ کي تصوير ميں جڑواں ٹاور پورے کا پورا نظر آنا شروع ہوجاتا ہے۔ 1999 ميں مکمل ہونے والے تقريباً  452ميٹرز بلند جڑوں ٹاورز 2004 تک دنيا کي بلند ترين عمارت سمجھے جاتے رہے ہيں۔ 88 منزلہ عمارت کا افتتاح یکم اگست 1999 کو موجودہ وزیر اعظم مہاتیر محمد نے کیا تھا۔ تاہم جب  تائیوان کے درالحکومت میں اس سے بھی بلند عمارت  تائی پائی 101 کی تعمیر ہوئی تو اس کا یہ اعزاز چھن گیا۔ جالان امپانگ نامی سڑک پر واقع عمارت کی تعمیر پر ایک ارب 60  کروڑ ڈالرز خرچ آیا تھا جو کہ لاہور میٹرو ٹرین کی لاگت کے لگ بھگ ہے۔  دونوں ٹاورز کو41 ویں منزل پر ایک پل  اس طرح ملاتا ہے کہ ان کی خوبصورتی کو چار چاند لگ جاتے ہیں۔ کوالالمپور میں آنے والے ہر سیاح کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ پیٹروناس کی سب سے اوپری منزل پر کوالالمپور شہر کا فضائی نظارہ کرنے کے علاوہ تصویر بنا سکے۔ مگر اس کی ایک قیمت چکانی پڑتی ہے۔ ٹاورز کے ٹاپ پر جانے کا ٹکٹ 80 رنگٹس یعنی تقریباً 2400 روپے فی کس ہے۔ اس لیے اوپر جانے کے لئے بھی ایک رش لگا رہتا ہے۔ ٹاورز کے نیچے کمرشل سینٹر میں بھی سیاحوں کی بھیڑ ہوتی ہے جہاں اشیا کی قیمت دارالحکومت کے دیگر علاقوں سے زیادہ ہوتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود بھی بین الاقوامی برانڈ کی اشیائے صرف پیٹروناس سے خریدنا بھی ایک اسٹیٹس سمبل ہی سمجھا جاتا ہے۔ پیٹروناس کے قریب اور بھی ایسی عمارات ہیں جس کے ساتھ تصاویر بنوانا ہر سیاح اپنے لیے ضروری سمجھتا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here