خار زار صحافت۔۔۔قسط چورانوے

0
532

ایٹمی دھماکوں کے پاکستانی معیشت پر سائے

تحریر: محمد لقمان

مئی 1998 میں بھارتی ایٹمی دھماکوں کے جواب میں پاکستانی دھماکے بہت بڑا قدم تھا۔ اس کے بعد لاہور سمیت ملک بھرمیں  عوام نے اس جرات مندانہ فیصلے کو سراہا اور حکومت نے اس کو ملک کی تاریخ کا بہت بڑا واقعہ قرار دیا۔مگر بین الاقوامی سطح پر بھارت اور پاکستان پر اقتصادی پابندیاں لگنے سے چند روز بعد ہی ساری خوشیاں ماند پڑ گئیں۔ جون سے دسمبر تک  معیشت کو سنبھالنے کے لئے حکومت کو مختلف کوششیں کرنی پڑیں۔ ملک کے پاس ایک وقت پر تو چالیس کروڑ ڈالرز سے زائد زرمبادلہ کے ذخائر نہیں بچے تھے۔ درآمدات کرنا بھی آسان نہیں رہا تھا۔  فوری طور پر نواز حکومت نے ملک سے ڈالرز کو باہر جانے سے روکنے کے لئے فارن کرنسی اکاونٹس منجمد کردیے۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت ملک کے مختلف بینکوں میں ان اکاونٹس میں سات ارب ڈالرز موجود تھے۔ یہ عوامی اعتماد کو  ایک بہت بڑا جھٹکا تھا۔ اسی دوران اقوام متحدہ کی طرف سے عائد پابندیوں کی وجہ سے مختلف ممالک اور بین الاقوامی اداروں نے پاکستان کی امداد بند کردی ۔ آئی ایم ایف نے بھی اپنا قرض دینے کا پروگرام معطل کردیا۔ ڈالر کی قدر کے تعین کا دہرا نظام متعارف کروایا گیا۔ درآمد کے لئے ایک ریٹ تھا اور دیگر مقاصد کے لئے الگ۔ ڈالر کی قدر ایک موقع پر بڑھ کر 50 روپے تک بھی پہنچ گئی۔ اسی طرح پیٹرول کی قیمت میں بھی 25 فی صد اضافہ کردیا گیا۔ عوام  پہلے تو بھارت کے مقابلے میں ایٹمی دھماکوں پر خوش تھے۔ مگر اب عالمی پابندیوں کی وجہ سے افراط زر میں اضافہ ان کے لئے مشکلات کا باعث بن رہا تھا۔ رہی سہی کسر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل کمی تھی۔ اور پابندیوں کی وجہ سے کوئی بین الاقوامی یا دوست ملک بھی قرضہ دینے کو بھی تیار نہیں تھا۔ اس وقت کی نواز شریف کابینہ کے رکن ڈاکٹر حفیظ پاشا نے کئی سال  بعد راقم الحروف کو بتایا کہ صورت حال اتنی خراب تھی کہ جس برادر ملک سے بھی امداد یا قرضے کی بات کی اس نے انکار کیا۔ تاہم جولائی کے مہینے میں معاملات بہتر ہونا شروع ہوگئے۔کویت پہلا ملک تھا جس نے پاکستان کو 25 کروڑ ڈالرز دینے کی حامی بھری۔ یوں ملک کو اقتصادی مشکلات سے نکالنے کا عمل شروع ہوگیا۔ اس کے بعد سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک نے پاکستان کو قرضہ فراہم کردیا۔ ان حالات میں بین الاقوامی دباو بھی مسلسل جاری تھا۔  امریکہ کی طرف سے خاموش سفارت کاری جاری تھی۔ مذاکرات کے ہر دور میں امریکی نائب وزیر خارجہ اسٹروب ٹالبوٹ کسی نہ کسی نئی شرط کے ساتھ ہی شریک ہوتے تھے۔ نیوکلیر تجربات پر پابندی کے معاہدے سی ٹی بی ٹی پر دستخط کی فرمائش تو ہر دفعہ ہوتی تھی۔ 1998 کا سال اختتام تک ایسا ہی رہا۔ مگر اگلا سال میں بھی بہتری کی بہت بڑی امید نظر نہیں آ رہی تھی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here