خار زار صحافت۔۔۔قسط ایک سو گیارہ

0
384


صحافت کے ساتھ ٹرانسکرپشن بھی
تحریر: محمد لقمان
سال دو ہزار ایک میں پاکستان میں انٹرنیٹ مقبول ہونا شروع ہوا تو نوجوان اس کی مدد سے فری لانسنگ اور ورک فرام ہوم کی جاب ڈھونڈنے لگے۔ اس سلسلے میں میڈیکل ٹرانسکرپشن اور لیگل ٹرانسکرپشن سے بہت زیادہ امیدیں لگا لی گئیں۔ اس وقت کے وفاقی وزیر ڈاکٹر عطا الرحمان نے تو دعوی کردیا کہ پاکستان آئی ٹی اور اس سے متعلقہ فری لانسنگ کاموں سے سالانہ دس ارب ڈالرز کما سکتا ہے۔ میڈیکل ٹرانسکرپشن سکھانے کے لئے سرکاری اداروں میں انتظام کیا گیا تو متعدد نجی ادارے بھی ٹرانسکرپشن سکھانے کے لئے میدان میں آگئے۔ اسی طرح میڈیکل ٹرانسکرپشن کمپنیاں جن میں باہو نیٹ شامل تھیں۔ انہوں نے یہ ہنر سیکھنے والوں کے لئے روزگار کے دروازے کھول دیے۔ صاحب اولاد ہونے کے بعد گھر کے خرچے بڑھ گئے تھے۔ اس لئے میں نے بھی کیولری گراونڈ کے پل کے ساتھ واقع نجی ادارے انفوسافٹ انسٹی ٹیوٹ میں داخلہ لے لیا۔ تین ماہ کی ٹریننگ کا خرچہ گیارہ ہزار روپے تھے۔ جب تنخواہ پندرہ بیس ہزار روپے مہینہ ہو تو گیارہ ہزار روپے ایک بڑی رقم ہوتی ہے۔ بہر حال جس طرح کے خواب مشرف حکومت نے دکھائے تھے۔ اس کی وجہ سے ملک بھر میں ہزاروں نوجوانوں اور برسرروزگار افراد نے سا یئیڈ بزنس کی امید میں سرکاری اور نجی اداروں میں داخلہ لے لیا تھا۔ انفوسافٹ انسٹی ٹیوٹ کے مالکان میں ایک ریٹائرڈ کرنل اور ان کی بیوی تھے۔ کوآرڈینیشن کا کام سبین نامی ایک نوجوان لڑکی کے ذمے تھا۔ ڈاکٹر مشتاق انسٹرکٹر تھے جن کی ڈیوٹی میڈیکل ٹرمینالوجی کے بارے میں بتانا اور ویوپیڈل سافٹ ویر کے ذریعے وائس ڈیٹا کو سن کر اس کو الفاظ کے قالب میں ڈالنے کی تربیت دینا تھا۔ کچھ دنوں کے بعد پتا چلا کہ ہمارا ٹرینر بھی ہمارے جتنا ہی علم رکھتا ہے۔خاص طور پر راقم الحروف جس نے اپنی عملی زندگی کا آغاز ایبٹ لیبارٹریز سے کیا تھا۔ اس کے لئے تو اس انسٹرکٹر کی باتوں میں کم علمی کا اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا۔ میرے علاوہ دیگر طلبہ میں میری ہی عمر کے انوسینٹ اختر بھٹی، نوجوان محمد اعظم ، دو نرسیں۔ ام صائمہ اور فرزانہ اختر اور ایم ایس سی زووالوجی صائمہ ریاض کے علاوہ تین چار اور افراد بھی تھے۔ جن کے نام بھول گیا ہوں۔ دو تین افراد تو ٹریننگ کے دوسرے ہفتے ہی داغ مفارقت دے گئے۔ مگر باقی چھ سات افراد نے پورے تین ماہ کی ٹریننگ حاصل کی۔ میں نے اس ٹریننگ سے اتنی امیدیں لگائی ہو ئی تھیں کہ ٹریننگ کے آخری مہینے یعنی مئی دو ہزار ایک میں اے پی پی کے دفتر سے پورے مہینے کی چھٹی لے لی۔ بالآخر مئی کے آخر میں ہماری تربیت ختم ہوئی اور ہمیں سرٹیفکیٹس سے نواز ا گیا۔ اس کے بعد میں اے پی پی کے دفتر اور اپنے گھر میں سافٹ ویر اور سپیکرز کے استعمال سے میڈیکل ٹرانسکرپشن کی پریکٹس کرتا رہا۔ مگر جو جاب اس کے بعد مارکیٹ میں نظر آئیں ان میں معاوضہ اتنا کم تھا کہ میرے لئے وہاں کام کرنا ممکن نہیں تھا۔ مثلاً باہو انسٹی ٹیوٹ میں فل ٹائم ماہانہ تنخواہ پینتیس سو روپے تھی۔ جس کے لئے میں اپنی اچھی خاصی نوکری قربان نہیں کرسکتا تھا۔ مجھے نہیں اندازہ کہ کتنے لوگوں کی پلیسمنٹ ہوئی اور کتنے افراد بے کار رہے۔ رہی سہی کسر بعد میں نائین الیون کے واقعہ نے پوری کردی جس کے بعد مغربی دنیا میں پاکستان، بھارت اور دیگر ترقی پذیر ممالک کے لئے انٹرنیٹ پر مبنی کام خصوصاً آوٹ سورسنگ کے ذرائع بند ہو گئے تھے۔ بھارت ہم سے پہلے اس فیلڈ میں آیا تھا اس لیے اس کے نوجوانوں نے میڈیکل اور لیگل ٹرانسکرپشن سے کروڑوں ڈالرز کما لیے تھے۔ مگر پاکستانی نوجوان اور ان کی کمپنیاں اس فیلڈ سے کئی سال باہر رہے۔ علم کبھی ضائع نہیں ہوتا ۔ میری میڈیکل ٹرانسکرپشن سے پہلی کمائی دو ہزار بارہ میں ہوئی جب میں نے آگ لگنے کے ایک واقعہ کی تحقیقات کی گفتگو کو دو روز میں الفاظ کی شکل دے کر اپنی تربیت کے خرچے سے کہیں زیادہ کما لیا۔ یہ ہنر اس کے بعد بھی کئی سال میری روزی کا ذریعہ رہا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here