خار زار صحافت۔۔۔قسط ایک سو چار

0
328


مشرف اور مدارس
تحریر: محمد لقمان

جنوری سال دو ہزار کا آخری ہفتہ۔۔ لاہور کے فیروز پور روڈ پر جامعہ اشرفیہ کے داخلے دروازے کے قریب مدرسہ کے مہتم سمیت تمام اساتذہ قطار میں کھڑے ہیں۔ اے پی پی کی طرف سے میرے علاوہ پی ٹی وی اور دیگر سرکاری میڈیا اداروں کی نمائندگی بھی پوری طرح موجود ہے۔ سب کے چہرے پر سنجیدگی ہے۔ ہر کوئی اس انتظار میں ہے کہ کب پاکستان کے فوجی حکمران چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف مدرسے میں پہنچتے ہیں۔ یہ ان کا حکومت سنبھالنے کے بعد لاہور کے مدارس کا حکومت سنبھالنے کے بعد پہلا دورہ تھا۔ جامعہ اشرفیہ کے علاوہ جامعہ رضویہ بھی انہوں نے جانا تھا۔ تقریباً آدھ گھنٹے کے انتظار کے بعد ایک دم وردی پوش اور سادہ لباس میں ملبوس انٹیلیجنس اہلکاروں کی فوج ظفر موج مدرسے کے برآمدے میں داخل ہوگئی۔ یہ اس بات کی علامت تھی کہ مملکت خداداد کے سربراہ کی آمد ہو چکی ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد گاڑیوں کے دروازے زور سے کھولنے اور بند کرنے کی آواز آئی اور جنرل پرویز مشرف مدرسے کی عمار ت میں داخل ہوگٗے۔ انہوں نے قطار میں کھڑے سب افراد بشمول سرکاری میڈیا کے ارکان سے ہاتھ ملایا اور حال و احوال پوچھا ۔ یہ میرا پرویز مشرف سے پہلا اور آخری مصافحہ تھا۔ اس کے بعد چیف ایگزیکٹو جامعہ اشرفیہ کے اس وقت کے مہتمم شیخ الحدیث عبدالرحمان اشرفی ، ان کے بھائی فضل الرحیم (موجودہ مہتمم) اور فیکلٹی کے دیگر ارکان کے ساتھ ملاقات کے لئے ایک کمرے میں چلے گئے۔ ہم آفیشل میڈیا کے ارکان باہر ہی موجود رہے۔ جب ملاقات ختم ہوئی تو آئی ایس پی آر اور پی آئی ڈی کے حکام نے مجھے بات چیت کے اہم نکات بنائے۔ جس کی بنیاد پر اے پی پی سے خبر جاری کی گئی۔ یہی خبر پی ٹی وی اور ریڈیو سے نشر ہوئی اور اگلے روز کے اخبارات میں شائع ہوئی۔ اس خبر کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ پرویز مشرف نے علما کو یقین دلایا تھا کہ ان کی حکومت مدارس کی بہتری چاہتی ہے۔ یہ دورہ دسمبر انیس سو ننانوے میں مولانا مسعود اظہر کی بھارتی طیارے کے اغوا کے بعد رہائی اور جنرل پرویز مشرف کے جدید ترکی کے بانی اتا ترک مصطفی کمال پاشا کے بارے میں ایک بیان کے بعد بڑی اہمیت کا حامل تھا۔ ترکی میں اپنی زندگی کے کئی سال گذارنے کی وجہ سے مشرف کو اتا ترک اور اس کے نظریے سے خاص لگاو تھا۔ جس کی وجہ سے پاکستانی علما میں ایک تشویش تھی۔ لیکن علما اور مشرف کے درمیان یہ ھنی مون کا دور زیادہ دیر نہ چل سکا اور تقریبا ً ایک سال بعد ہی مدارس کی لازمی رجسٹریشن کے لئے حکومت نے اعلان کیا تو مذہبی طبقے میں بہت زیادہ رد عمل پیدا ہوا۔ یہ صورت حال امریکہ میں نائن الیون کے واقعے کے بعد مزید بگڑ گئی۔
(جاری ہے)

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here