خار زار صحافت۔۔قسط اکیانوے

0
663

ممتاز  راٹھور: اپنے  ہوئے بیگانے

تحریر:  محمد  لقمان

 قانون  ساز  اسمبلی  کے  اسپیکر  راجہ  ممتاز  حسین  راٹھور  کے  خلاف  تحریک  عدم  اعتماد  کی  وجہ  سے  مظفر  آباد  شہر  کی  سڑکوں  پر  ایک  ویرانی  سی  نظر  آئی۔۔ اکا  دکا  گاڑیاں  اور  پیدل  افراد  اسمبلی  کی  عمارت  کی طرف  جا  رہے  تھے۔ ابھی  ہم  تھوڑی  ہی  دور  گئے  تھے  کہ  اچانک  فضا  فائرنگ  کی  تڑتڑ سے گونج  اٹھی۔  بھاگ  کر  ایک  عمارت  کی  اوٹ  میں  چلے  گئے۔  پوچھا  کہ  یہ  فائرنگ  کیسی  ہے۔  تو  بتایا  گیا  کہ  پیپلزپارٹی  اور  مسلم  کانفرنس  کے  ورکرز  ایک دوسرے  کے  خلاف  صف  آرا  ہیں۔  ایک  گھنٹہ  سے  زائد  وقت  ہم  نے  فائرنگ  کے  رکنے  کا  انتظار  کیا۔  مگر  یہ  سلسلہ  تھمنے   کا  جیسے  نام  ہی  نہیں  لے  رہا  تھا۔  یوں آزاد  کشمیر  قانون  ساز  اسمبلی  کی  عمارت  میں  جانے  کی  خواہش  پوری  نہیں  ہوئی۔  اور  واپس  پی  آئی  ڈی  کے  دفتر  جانا پڑا۔ اتنی  دیر  میں  اطلاع  آچکی  تھی  کہ  راجہ  ممتاز  حسین  راٹھور  کے  خلاف  عدم  اعتماد  کامیاب  ہو  چکی  ہے۔  اب  وہ  سپیکر آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی  نہیں  رہے  تھے۔  سیاست میں میں راجہ  ممتاز  راٹھور  کے  ساتھ  پہلے  بھی  ایسا  ہو  چکا  تھا۔  انیس  سو   نوے  میں  بینظیر  بھٹو  کے  دور  میں  وہ  بھاری  اکثریت  کے  ساتھ  وزیر  اعظم  آزاد  کشمیر  منتخب  ہو ئے۔  مگر  جوں  ہی  بے  نظیر  بھٹو  کو  صدر  غلام  اسحاق  خان  نے  اقتدار  سے  فارغ  کیا اور نواز شریف کی حکومت بنی  تو  ممتاز  راٹھور  کے  خلاف  بھی  سازشیں  ہونے  لگیں۔  اپنے ارد گرد حالات کو بدلتے دیکھ کر ممتاز راٹھور نے وزیر اعظم آزاد کشمیر کی کرسی سے چمٹے رہنے کی بجائے اسمبلی کو تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا۔ جو کہ بعد میں ایک غلط اقدام ثابت ہوا۔ شاید ان کا خیال تھا کہ اس جرات مندانہ فیصلے سے پیپلزپارٹی دوبارہ اقتدار میں آ جائے گی۔ مگر روایت کے مطابق وہی حکومت آزاد کشمیر میں اقتدار میں آتی ہے جس کو اسلام آباد میں حکومت کی اشیر باد ہو۔  دوبارہ انتخابات ہوئے تو مسلم لیگ ن سے وابستہ مسلم کانفرنس کامیاب ہوگئی یوں ممتاز راٹھور کا دوبارہ وزیر اعظم بننے کا خواب پورا نہ ہوسکا۔ مگر انیس سو اٹھانوے  کے جون  کے مہینے میں تو صورت حال بالکل مختلف تھی۔ اس بار ان کو گرانے والے ان کی اپنی پارٹی کے ہی لوگ تھے۔ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی حکومت نے اپنے ہی سپیکر کو ہٹانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اور وہ اس میں کامیاب بھی ہو گئی۔ راجہ ممتاز حسین راٹھور نے اس واقعہ کا اتنا اثر لیا کہ ٹھیک ایک سال بعد ہی اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔  قصہ مختصر ، پی آئی ڈی کے دفتر میں تحریک عدم اعتماد کے بارے میں خبر ٹائپ کی اور اسلام آباد میں اے پی پی ھیڈ کوارٹرز کو فیکس کردی۔ اسی دوران اے پی پی کے مظفر آباد میں نمائندے سجاد حیدر نے بھی خبر اسلام آباد بھیج دی تھی۔ بحر حال نیلم ویو ہوٹل واپس پہنچا تو بیگم بہت پریشان دکھائی دیں۔ ان کو ہوٹل کے ایک ویٹر نے قانون ساز اسمبلی کے قریب فائرنگ کے بارے میں بتا دیا تھا۔ اسی دوران اے پی پی مظفر آباد کے نمائندے سجاد حیدر بھی ہوٹل میں ملنے آگئے ۔ وہ اپنے ساتھ دوپہر کا کھانا لائے تھے جس میں چکن کی مختلف ڈشز تھیں۔ سہہ پہر ہونے والی تھی۔ سجاد حید سےپوچھا کہ کہاں شاپنگ کی جائے اور کہاں سیر کی جائے۔ تو انہوں نے دومیل جانے کا مشورہ دیا جہاں دریائے نیلم دریائے جہلم میں گرتا ہے۔

( جاری ہے)

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here