خار زارِ صحافت — قسط نمبر164

0
923

اے پی پی کی اسٹائل بک: خبر کیسے لکھیں، ایڈٹ کیسے کریں

تحریر: محمد لقمان

نومبر 1990 میں اے پی پی ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں جب ٹریننگ کا آغاز ہوا تو سب شرکاء کے ہاتھوں میں ایک مختصر سا کتابچہ تھما دیا گیا — وہ تھی “اے پی پی اسٹائل بک”۔

انگریزی میں تحریر کردہ اس کتاب کی کل ضخامت 30 سے 40 صفحات سے زیادہ نہیں تھی۔ یہ معلوم نہ ہوسکا کہ اسے کس نے مرتب کیا تھا، مگر اس کا ڈھانچہ دنیا کی مشہور خبر رساں ایجنسیوں — رائٹرز اور اے پی — کی اسٹائل بکس سے متاثر تھا۔

اس کتاب میں خبر کے ابتدائیے سے لیکر اخبار کے دفتر    تک ترسیل کے تمام مراحل کے  بارے میں واضح ہدایات موجود تھیں۔

انٹرو کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ اس میں کل الفاظ کی تعداد 35 سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ زبان سادہ ہو تاکہ ایک میٹرک پاس قاری بھی انگریزی میں لکھی گئی خبر کو بغیر ڈکشنری کو دیکھے، اس کو  سمجھ سکے۔

ہر خبر کے ساتھ ایک عنوان یعنی سلگ دینا لازمی ہوتا تھا جس میں شہر کے نام کے ساتھ خبر کی نوعیت کا ذکر ہوتا تھا۔

مثلاً  لاہور سے جاری ہونے والی پہلی خبر کا سلگ ایل ایچ آر ون ویدر ہے تو اس کا مطلب لاہور سے جاری ہونے والی دن کی پہلی خبر موسم کے بارے میں ہے۔

اسی طرح کراچی، اسلام آباد، کوئٹہ اور پشاور کے اپنے مخصوص سلگ ہوتے تھے۔ کئی مرتبہ ماسٹر سلگ کے ساتھ ذیلی سلگ بھی شامل کیے جاتے تھے۔

بعد میں جب اسلام آباد میں اے پی پی کے مرکزی کردار کو وسعت دی گئی تو کمپیوٹر کے ذریعے تمام سب اسٹیشنز کے لیے یکساں نمبر اور سلگ مقرر کیے گئے۔

اسٹائل بک میں سلگ کی اقسام بھی واضح کی گئی تھیں — سیاسی، کاروباری اور کھیلوں کی خبروں کے لیے الگ کیٹیگریز اور سلگز مقرر تھے۔

ابتدائی خبر کے بعد ایک مربوط اور تفصیلی خبر ارسال کی جاتی تھی، جسے لیڈ یا فرسٹ لیڈ کہا جاتا تھا۔

صورتحال بدلنے پر سیکنڈ، تھرڈ اور کبھی کبھی تو فورتھ لیڈ بھی رات گئے جاری کی جاتی تھی۔

آخری لیڈ کو فائنل لیڈ، لیڈ آل کہا جاتا تھا، جو پرنٹ میڈیا، پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان کو ارسال کی جاتی تھی۔

خبر کے آغاز میں ڈیٹ لائن شامل ہوتی تھی — جس میں مقام، تاریخ اور “اے پی پی” درج ہوتا تھا۔

جبکہ خبر کے اختتام پر رپورٹر اور سب ایڈیٹر کے نام کے ابتدائی حروف دیے جاتے تھے۔۔ بعد میں سینٹرل  ڈیسک سے ایک اضافی انیشل بھی شامل کیا جاتا تھا۔ ایکسکلوژو خبر یا فیچر کی صورت میں خبر کی ابتدا میں رپورٹر یا فیچر رائٹر کا نام بھی ہوتا تھا۔

کتاب میں مختلف خبری اصطلاحات بھی بیان کی گئی تھیں — مثلاً ارجنٹ خبر کون سی ہے اور فلیش خبر کون سی۔

فلیش خبر سب سے اہم سمجھی جاتی تھی — آج کے دور میں یہی اصطلاحات “بڑی خبر” یا “بریکنگ نیوز” کے طور پر جانی جاتی ہیں۔

اسی طرح خبر میں غلطی کی صورت میں تصحیح کا طریقہ کار بھی موجود تھا۔

غلطی دور کرنے کے بعد خبر دوبارہ بھیجی جاتی تھی، غلطی بڑی ہونے کی صورت میں منسوخی کا نوٹ عموماً یوں لکھا جاتا تھا:

“کل… کل… ایڈیٹرز براہ کرم ہماری خبر جو فلاں وقت جاری کی گئی اور جس کا سلگ یہ تھا، اسے منسوخ تصور کریں۔”

اگر متبادل خبر بھیجنا مقصود ہوتا تو اس کا ذکر الگ سے کیا جاتا، ورنہ اداروں کو صرف منسوخی سے آگاہ کیا جاتا۔

دروغ بر گردنِ راوی — کہا جاتا ہے کہ ایک بار صدر ایوب خان کے دور میں اے پی پی سے ایک خبر منسوخ کرنے کے لیے اخبارات کو پیغام گیا:

“کل… کل… پریذیڈنٹ… کل…”

مطلب یہ تھا کہ “پریذیڈنٹ” سلگ والی خبر منسوخ کی جا رہی ہے، مگر وزارتِ اطلاعات  اور ‘دیگر اداروں ‘ نے اسے کسی سازش کا اشارہ سمجھ لیا اور فوراً تفتیش شروع کر دی۔ بڑی مشکل سے انہیں اے پی پی کی اصطلاحات سمجھائی جا سکیں۔

اسی طرح بعض اوقات اگلے دن کے بارے میں جاری کی جانے والی خبروں پر امبارگو لگایا جاتا تھا۔ یعنی وہ خبر مخصوص وقت سے پہلے شائع یا نشر نہیں کی جا سکتی تھی۔

اسٹائل بک کا سب سے دلچسپ اور اہم حصہ ایڈیٹنگ سمبلز تھے۔ اگر کسی لفظ کے پہلے حرف کو بڑا کرنا مقصود ہوتا تو اس کے لئے ایک مخصوص علامت موجود تھی۔

اگر کوئی حرف چھوٹ گیا ہو تو قوس لگا کر اس کا اضافہ دکھایا جاتا تھا۔  دیگر تبدیلیوں کے اظہار کے لئے بھی علامات دی گئی تھیں۔ گویا یہ کسی سائنس سے کم نہ تھی۔

ایڈیٹنگ علامات لکھنے والے تو سب ایڈیٹرز ہوتے تھے، مگر انہیں سمجھنا ٹیلی پرنٹر آپریٹرز کا کام تھا — بالکل ایسے جیسے میڈیکل اسٹور والا ڈاکٹر کے نسخے کو آسانی سے پڑھ لیتا ہے۔

ٹی پی او حضرات کو ایڈیٹ شدہ کاپیاں پڑھنے اور سمجھنے کا خاص تجربہ ہوتا تھا۔

ٹائپ رائٹر کے زمانے میں یہ کام نہایت محنت طلب تھا، لیکن کمپیوٹر آنے کے بعد بہت آسان ہو گیا۔

مجھے چونکہ شارٹ ہینڈ بھی آتی تھی اس لیے میں نے اپنی مخصوص علامات ایجاد کر لی تھیں ۔ جس کا مجھے بہت فائدہ ہوا۔۔ خبر کو ٹائپ رائٹر پر لکھنے سے لے کر ٹیلی پرنٹر کے ذریعے اخبار کے دفتر تک پہنچانے کا سارا عمل اگرچہ تھکا دینے والا تھا، مگر اس وقت کی ٹیکنالوجی کے مطابق یہ ناگزیر اور ضروری تھا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here